بابری انہدام کیس :اڈوانی پر کیس چلے گا یا نہیں، سپریم کورٹ میں فیصلہ آج

بھارت

بابری  انہدام کیس :اڈوانی پر کیس چلے گا یا نہیں، سپریم کورٹ میں فیصلہ آج

بابری انہدام کیس میں اڈوانی، جوشی، کلیان سنگھ سمیت بی جے پی اور وشو ہندو پریشد کے 13 رہنماؤں پر مجرمانہ سازش کے تحت مقدمہ چلے گا یا نہیں، اس پر سپریم کورٹ آج اپنا فیصلہ سنائے گا. ساتھ ہی سپریم کورٹ یہ بھی طے کر سکتا ہے کہ اس معاملے میں رائے بریلی میں چل رہے مقدمے کی سماعت کو لکھنؤ میں چل رہے مقدمے کی سماعت کے ساتھ منسلک کیا جائے گا یا نہیں؟ بتا دیں کہ گزشتہ چھ اپریل کو سپریم کورٹ نے تمام فریقوں کی دلیلوں کو سننے کے بعد فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا.

چھ اپریل کو ہوئی سماعت میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ اس طرح کے معاملے میں انصاف کے لئے ہم دخل دے گا. اس کو دیکھتے ہوئے تکنیکی وجوہات سے اڈوانی سمیت ان لیڈروں پر لگے مجرمانہ سازش کے الزام ہٹائے گئے تھے، سپریم کورٹ نے کہا تھا ہم اس کے لئے آئین کے آرٹیکل -142 (سپریم کورٹ کو ملے استحقاق) کا بھی استعمال کر سکتے ہیں.

ساتھ ہی عدالت نے یہ بھی سوال کیا تھا کہ اس معاملے میں ایک ہی سازش ہیں، تو اس کے لئے دو الگ الگ ٹرائل کیوں؟ بنچ نے کہا کہ ہم ہائی کورٹ سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ اس معاملے کی مشترکہ ٹرائل کے لئے ایک جج کو مقرر کریں، جو شیڈول طریقے سے سماعت کریں، تا کہ اس معاملے کی سماعت دو سالوں میں مکمل ہو سکے.

معلوم ہو کہ اڈوانی سمیت دیگر رہنماؤں پر رائے بریلی کی عدالت میں بھیڑ کو اکسانے کا معاملہ چل رہا ہے جبکہ لکھنؤ کی خصوصی عدالت میں کار بندوں پر سازش اور متنازعہ ڈھانچے کو ڈھہانے کا مقدمہ چل رہا ہے.

سی بی آئی کی جانب سے دلیل دی گئی تھی کہ ان 13 رہنماؤں کے خلاف مجرمانہ سازش کا مقدمہ چلنا چاہئے. وہیں اڈوانی اور جوشی کی جانب سے پیش سینئر وکیل کےکے وینو گوپال نے مشترکہ ٹرائل کی مخالفت کی تھی. ان کا کہنا تھا کہ سی آر پی سی کے تحت ایسا نہیں کیا جا سکتا. ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اس طرح کے معاملے میں سپریم کورٹ آرٹیکل -142 کا استعمال نہیں کر سکتا کیونکہ یہ ملزمان کے زندگی بسر اور آزادی كےمول حقوق سے منسلک معاملہ ہے.

Similar Posts

Share it
Top