لکھنؤ -آگرہ ایکسپریس وے کے لئے تحویل اراضی میں گھوٹالہ کی جانچ حکم

بھارت

لکھنؤ -آگرہ ایکسپریس وے کے لئے تحویل اراضی میں گھوٹالہ کی جانچ حکم

لکھنؤ: سابقہ اکھیلیش حکومت کے متعدد اہم ترقیاتی پروجیکٹوں پر نظریں گاڑنے کے بعد اترپردیش کی یوگی حکومت نے لکھنؤ -آگرہ ایکسپریس وے پر اپنا گھیرا تنگ کرتے ہوئے اس کے لئے تحویل اراضی میں گھوٹالے کی جانچ کا حکم دے دیا ہے۔
دار الحکومت لکھنؤ اور تاج نگری آگرہ کے درمیان 302 کلومیٹر طویل ایکسپریس وے کو اکھیلیش حکومت نے 11 ہزار کروڑ کی لاگت سے 22 مہینے کی ریکارڈ مدت میں تعمیر کیا تھا۔
اسمبلی انتخابات کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) ایکسپریس وے کی لاگت پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ ایکسپریس وے کی تعمیر کی لاگت نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ذریعہ تعمیر کی گئي سڑکوں کی اوسط لاگت سے بہت زيادہ ہے۔
یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت نے اس سلسلے میں گزشتہ شب انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔ ایکسپریس وے کی تعمیر میں مبینہ گھوٹالہ کے لئے اس کی چھان بین کی جارہی ہے۔ الزام لگایا گیا ہے کہ ایکسپریس وے کے لئے تحویل اراضی کے تحت غیر رہائشی زمین کو بھی زیادہ معاوضے پانے کی غرض سے رہائشی زمین کے طورپر پاس کردی گئي ہے۔
حکومت نے اترپردیش ایکسپریس وے انڈسٹریل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے فائنانشیل کنٹرولر سشیل گپتا کا تبادلہ کردیا ہے اور 10 اضلاع کے مجسٹریٹوں کو تحویل اراضی کی ازسر نو جانچ کرنے کا حکم دیا ہے۔
ایک سرکاری اہلکار نے آج یہاں بتایا کہ حکومت نے فائنانشیل کنٹرولر کا تبادلہ کردیا ہے اور گزشتہ ایک سال کے دوران حصول اراضی معاہدوں کو جانچ کے دائرے میں لانے کو کہا ہے۔

Similar Posts

Share it
Top