ہندوستان اور ترکی کے درمیان سرمایہ کاری کے بے پناہ امکانات : مودی

بھارت

ہندوستان اور ترکی کے درمیان سرمایہ کاری کے بے پناہ امکانات : مودی

نئی دہلی،وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک میں بنیادی ڈھانچے، توانائی اور سیاحت
کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے کے لئے ترکی کی کمپنیوں کو مدعو کرتے ہوئے آج کہا کہ ہندوستان
میں کبھی بھی سرمایہ کاری کا ماحول اتنا اچھا نہیں تھا جتنا آج ہے۔
ترکی کے صدر رجب طیب اردغان کے ساتھ ہند-ترکی بزنس سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر مودي
نے کہا کہ ہندوستان نے 2022 تک پانچ لاکھ گھروں کی تعمیر کا ہدف رکھا ہے۔ پچاس شہروں میں
میٹرو ریل منصوبے شروع کئے جا رہے ہیں اور آئندہ چند سال میں قابل تجدید توانائی کی کارکردگی
میں اضافہ کرکے 175 گيگاواٹ کرنے کا ہدف ہے۔ ریلوے نیٹ ورک کی تجدید اور ہائی ویز کو
اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح ہوائی اڈوں کو اپ گریڈ کرنے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی پالیسیوں
میں بھی تبدیلیاں کی ہیں۔
مسٹر مودی نے کہا کہ وزیر اعظم کے طور پر سال 2008 میں مسٹر اردغان کا ہندوستان دورے کے
دوران دونوں ممالک کی باہمی تجارت 2.8 ارب ڈالر تھا جو 2016 تک بڑھ کر 6.4 ارب ڈالر تک
پہنچ گیا ہے۔اس میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے لیکن یہ کافی نہیں ہے۔
مسٹر اردغان نے ہندوستان کے ساتھ آزادانہ تجارت کے معاہدے پر بات چیت کا مطالبہ کرتے ہوئے
کہا کہ اگر ایسا ہو سکا تو دونوں ممالک کے تعلقات اور گہرے ہوں گے۔ انہوں نے نیوکلیائی توانائی اور
ایرو اسپیس کے علاقے میں بھی تعلق میں اضافے کی خواہش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک
کے درمیان دو طرفہ تجارت ہندوستان کے حق میں ہے جسے توازن دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں
نے ہندوستانی کمپنیوں کو ترکی میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ ترکی بحیرہ اسود کے علاوہ
مغربی ایشیا اور وسطی ایشیا کا دروازہ ثابت ہو سکتا ہے۔
مسٹر اردغان نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک دوسرے کی کرنسی میں تجارت دونوں فریقوں
کے لئے منافع بخش ہوگا۔

Similar Posts

Share it
Top