محبوبہ مفتی کا اقتدار سے چمٹے رہنا بے شرمی ہے: عمر عبداللہ

بھارت

محبوبہ مفتی کا اقتدار سے چمٹے رہنا بے شرمی ہے: عمر عبداللہ

سری نگر ، جموں وکشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے اننت ناگ کی پارلیمانی نشست پر ضمنی انتخابات کو غیرمعینہ مدت کے لئے ملتوی کرنے کے اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پانچ فیصد لوگوں کی علامتی کامیابی کا اعتراف کیا جانا چاہیے جنہوں نے بقول عمر عبداللہ کے ریاستی اور مرکزی سرکار کی طاقت کو گھٹنوں کے بل بٹھا دیا ہے۔ انہوں نے وادی کے موجودہ مخدوش حالات کو ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی میراث قرار دیا ہے۔
مسٹر عبداللہ نے محترمہ مفتی سے مخاطب ہوکر کہا ہے 'آپ کے ''پانچ فیصد لوگوں'' نے جموں وکشمیر کو واپس نوے کی دہائی کی دہلیز پر کھڑا کردیا ہے اور آپ بے شرمی سے اقتدار سے چمٹی ہوئی ہیں'۔ خیال رہے ریاستی وزیر اعلیٰ محترمہ مفتی نے گذشتہ برس معروف حزب المجاہدین کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والی شدید آزادی حامی احتجاجی مظاہروں کی لہر کے دوران کہا تھا کہ وادی میں صرف پانچ فیصد لوگ امن کی بحالی میں رکاوٹ پیدا کررہے ہیں۔
انہوں نے گذشتہ برس اگست کے اواخر میں کہا تھا ' کشمیر کے 95 فیصد لوگ بات چیت سے بحالی امن چاہتے ہیں اور صرف پانچ فیصد لوگ اس عمل میں رکاوٹ پیدا کر رہے ہیں'۔ تاہم اس بیان کی وجہ سے انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ عمر عبداللہ جو کہ نیشنل کانفرنس کے کارگذار صدر بھی ہیں، نے منگل کی صبح سلسلہ وار ٹویٹس کرکے الیکشن کمیشن کی جانب سے اننت ناگ پارلیمانی نشست کے انتخابات ملتوی کرائے جانے پر ریاستی حکومت بالخصوص محترمہ مفتی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا 'کشمیر میں جس طرح ہم پیچھے چلے جارہے ہیں، وہ مایوس کن ہے۔ 2014 ء کے پارلیمانی انتخابات میں لوگوں کی بھاری شرکت سے ہم اب 2017 ء میں انتخابات کی منسوخی تک پہنچ گئے ہیں'۔


Similar Posts

Share it
Top