کرشنا وادی حملہ : پاکستانی ہائی کمشنر طلب، ہندوستان نے احتجاج درج کرایا

بھارت

نئی دہلی، پاکستانی فوج کی طرف سے جموں و کشمیر میں کنٹرول لائن پر دو ہندوستانی جوانوں کی لاشوں کو مسخ کرنے پر ملک میں غم و غصہ کی لہر کے درمیان خارجہ سکریٹری ڈاکٹر ایس جے شنکر نے آج پڑوسی ملک کے ہائی کمشنر عبدالباسط کو طلب کر کے اس مکروہ کارروائی کے لئے مجرم پاکستانی فوجیوں اور ایریا کمانڈروں کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔
خارجہ سکریٹری نے ہائی کمشنر کو وزارت خارجہ میں طلب کر کے اس وحشیانہ کارروائی پر ہندوستان کا احتجاج درج کیا۔
وزارت خارجہ کے ترجمان گوپال باگلے نے ٹویٹ کر کے بتایا کہ ' خارجہ سکریٹری نے پاکستانی ہائی کمشنر کو طلب کیا، انہیں ہندوستان کے احتجاج اور اعتراض سے آگاہ کیا اور اس کارروائی کے لئے ذمہ دار پاک فوج اور ایریا کمانڈروں کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔
مسٹرگوپال باگلے نے کہا کہ خارجہ سکریٹری نے پاکستانی ہائی کمشنر کو بتایا کہ بٹل سیکٹر میں یہ واقعہ ہونے سے پہلے کنٹرول لائن کے پار پاکستانی چوکیوں سے انہیں تحفظ دیا گیا تھا۔ انہیں یہ بھی بتایا گیا کہ شہید جوانوں کے خون کے نمونے لئے گئے ہیں، جن کی تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ جائے واردات سے روزہ نالہ تک اسی خون کے نشانات ملیں ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ قتل کرنے والے نالہ پار کر کے پاکستان کے قبضے والے علاقے میں لوٹے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سکریٹری خارجہ نے مسٹر عبدالباسط سے مطالبہ کیا کہ پاکستان اس وحشیانہ کارروائی کے ذمہ دار فوجیوں اور کمانڈروں کے خلاف فوری طور پر کارروائی کرے۔
فوج کے ذرائع کے مطابق پاکستان نے پیر کو صبح 8 بج کر 40 منٹ پر کنٹرول لائن سے متصل کرشنا وادی سیکٹر میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کر کے فارورڈ چوکیوں پر راکٹ اور مارٹر سے حملہ کیا اور اسی دوران ہندوستانی سرحد میں تقریبا 250 میٹر اندر پاکستان کی بارڈر ایکشن ٹیم (بی اے ٹی) نے گشت کر نے والے ہندوستانی جوانوں پر گھات لگا کر حملہ کیا جس میں فوج کے نائب صوبیدار پرم جیت سنگھ اور بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے ہیڈ کانسٹیبل پریم ساگر شہید ہوگئے اور جوان راجندر سنگھ زخمی ہو گیا۔
دونوں شہید جوانوں کی لاشیں مسخ شدہ حالت میں پائی گئی تھیں، حملے کے وقت فوج اور بی ایس ایف کا دس جوانوں والا ایک مشترکہ دستہ گشت لگاتے ہوئے گھنے جنگل والے علاقے سے ایک چوکی سے دوسری چوکی کی جانب جا رہا تھا۔

Similar Posts

Share it
Top