راہل گاندھی سمیت کئی سینئر لیڈر نیمچ میں گرفتار

بھارت

راہل گاندھی سمیت کئی سینئر لیڈر نیمچ میں گرفتار

نئی دہلی/بھوپال، کئی دنوں سے تشدد کا شکار بن رہے مغربی مدھیہ پردیش کے نیمچ ضلع میں آج کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی سمیت کانگریس کے کئی دیگر سینئرلیڈروں کو گرفتار کرلیا گیا۔ اس دوران مغربی حصہ میں آج اکا دکا واقعات کے علاوہ صورتحال پوری طرح قابو میں ہے۔
ذرائع کے مطابق آج کرفیو زدہ مندسور پہنچنے کی کوشش کے دوران مسٹر گاندھی اور دیگر سینئر لیڈروں کو سرحدی ضلع نیمچ کے نیا گاؤں میں پولیس نے گرفتار کرلیا گیا۔ مسٹر گاندھی کے ساتھ کانگریس کے قومی جنرل سکریٹری دگ وجے سنگھ، سابق مرکزی وزیر کمل ناتھ، کانگریس کی ریاستی اکائی کے صدر ارون یادو، اپوزیشن لیڈر اجے سنگھ بھی گرفتار کئے گئے ہیں۔ متحدہ جنتا دل کے سرپرست شرد یادو بھی سبھی لیڈروں کے ساتھ موجود تھے۔
قبل ازیں مسٹر گاندھی راجستھان کے راستے موٹر سائیکل سے نیا گاؤں پہنچے تھے۔ مدھیہ پردیش کی سرحد میں آ نے کے بعد انہیں دفعہ 144 نافذ ہونے کے سبب احتیاطاً حراست میں لیا گیا تھا۔ بعد میں ان کی گرفتاری کا اعلان کیا گیا۔ پولیس انتظامیہ کا کہنا ہے کہ امن میں خلل ڈالنے کی کوشش کے الزام میں انہیں گرفتار کیا گیا ہے۔
دریں اثنا ریاست کے وزیر داخلہ بھوپیندر سنگھ نے یہاں میڈیا سے کہاکہ معاملے کی ابتدائی جانچ کے بعد حکومت اس نتیجہ پر پہنچی ہے کہ منگل کے روز پولیس نے گولیاں چلائی تھیں اور اسی وجہ سے کسانوں کی جانیں گئی ہیں۔ انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہاکہ حکومت قانون و انتظام برقرار رکھنے کیلئے پوری طرح پرعزم ہے۔
مندسور میں حالات بے قابو ہونےکے سبب ریاستی انتظامیہ نے آج ریاست کے تین اضلاع میں نئے کلکٹروں اور دو ضلعوں میں نئے پولیس سپرنٹنڈنٹ کی تقرری کے حکم جاری کئے۔
ریاست کے گُنا میں ریل روکے کی کوشش کر رہے 90 کانگریسی کارکنوں کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔ راجدھانی بھوپال میں بھی مسٹر گاندھی کی گرفتاری کی مخالفت کر رہے کانگریس کے کچھ کارکنوں کو پولیس نے حراست میں لیا ہے۔
قبل ازیں کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے آج الزام لگایا تھا کہ وہ کسانوں کی بات سننے کیلئے ہلاک شدگان کے رشتہ داروں سے ملاقات کرنے مدھیہ پردیش کے مندسور جا رہے تھے لیکن انہیں بغیر وجہ بتائے حراست میں لے لیا گیا۔
مسٹر گاندھی نے ٹویٹ کیا 'میں صرف متاثر کسانوں کے کنبوں سے ملاقات کرنا چاہتا تھا، ان کی بات سننا چاہتا تھا، مجھے کوئی وجہ نہیں بتائی گئی، بس کہا گیا کہ حراست میں لے رہے ہیں۔
کانگریس کے نائب صدر نے کہاکہ کسان اپنے حق کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن ان پر گولیاں چلائی گئیں۔ ان کا کہنا ہے کہ متاثر کسانوں سے ملاقات کرنا، ان کے ساتھ ہمدردی و اتحاد کا مظاہرہ کرنا غلط اور غیرقانونی نہیں ہے۔
انہوں نے ٹویٹ کیا 'کون سا قانون کہتا ہے کہ ان کسانوں کے ساتھ اتحاد کا مظاہرہ کرنا غیرقانونی ہے، جنہیں پرامن طور پر اپنے حق کا مطالبہ کرنے کی وجہ سے گولی مار دی جاتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا 'مودی جی کسانوں کا قرض معاف نہیں کرسکتے، انہوں فصلوں کی صحیح قیمت اور معاوضہ نہیں دے سکتے، صرف کسانوں کو گولی دے سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ مدھیہ پردیش کے مندسور میں اپنی فصلوں کی مناسب قیمت کا مطالبہ کر رہے کسانوں پر گولیاں چلائی گئی تھیں جس میں چھ کسان مارے گئے اور آٹھ زخمی ہوئے ہیں۔

Similar Posts

Share it
Top