کشمیر کے موجودہ ماحول میں بات چیت ممکن نہیں:جیتیندر

بھارت

کشمیر کے موجودہ ماحول میں بات چیت ممکن نہیں:جیتیندر

نئی دہلی،وزیراعظم کے دفتر میں وزیرمملکت جیتیندر سنگھ نے جموں و کشمیر کے موجودہ حالات میں بات چیت کے امکان سے انکار کیا ہے اور کہا ہےکہ پتھربازی اور بات چیت دونوں ساتھ ساتھ نہیں چل سکتیں۔
ڈاکٹر سنگھ نے یواین آئی سے بات چیت میں کہا،''جمہوریت میں بات چیت کا راستہ بند نہیں کیا جاسکتا لیکن اس کےلئے سازگار ماحول ہونا ضروری ہے۔بات چیت کرنے کےلئے کچھ حد تک امن ہونا ضروری ہے اس لئے پتھر بازی اور بات چیت دونوں ساتھ ساتھ نہیں چل سکتیں۔''
ریاست کی وزیراعلی محبوبہ مفتی کی علحیدگی پسندوں اور پاکستان سے بات چیت کے مسلسل مطالبے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ وزیراعلی بھی واضح کرچکی ہیں کہ پتھربازی اور گولیوں کے شورمیں بات چیت ممکن نہیں ہے۔وادی میں بدامنی کے باوجود وزیراعلی کا رویہ تعاون والا ہے۔وہ یہ بھی کہہ چکی ہیں کہ کشمیر مسئلہ کا حل صرف وزیراعظم نریندر مودی ہی نکال سکتےہیں۔
کشمیر مسئلہ کو سلجھانے کی کوشش کے تحت بی جےپی کے رہنما یشونت سنہا اور کانگریس کے لیڈر منی شنکر ایئر کی وادی کے لوگوں سے ہوئی بات چیت پر ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ ذاتی سطح پر امن کی کوشش کےلئے ہر شخص آزاد ہے۔علحیدگی پسندوں پر طنز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ غریبوں کے بچوں کے ہاتھوں میں پتھر پکڑا رہے ہیں اور ان کے خود کے بچے سرکاری نوکریاں کررہے ہیں اوربیرون ملکوں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔اگر آزادی کی لڑائی ان کےلئے اتنی ہی پاک ہے تو گرو گووند سنگھ کی طرح اپنے بچوں کو بھی اس میں شامل کریں۔کسی پارٹی کا نام لئے بغیر انہوں نے کہا کہ ریاست کے نام نہاد مرکزی دھارے کی پارٹیاں بھی اقتدار سے باہر ہونے پر سیاسی فوائد کے لئے نوجوانوں کو گمراہ کرنے میں ملوث ہو جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان مٹھی بھر علیحدگی پسند عناصر کو الگ -تھلگ کرنے کے لئے حکومت نے کئی اقدامات کئے ہیں ،جن نتائج جلد آئیں گے۔
گزشتہ دنوں سول سروس کے امتحان میں بڑی تعداد میں ریاست کے نوجوانوں کو ملی کامیابی کو ان کی قابلیت کی علامت قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیر کا نوجوان اب جاگ گیا ہے۔ اسے سمجھ میں آ گیا ہے اس کا مستقبل ملک کے باقی حصے کے ساتھ ہے۔ اب وہ كٹ كر نہیں رہنا چاہتا ہے۔

Similar Posts

Share it
Top