ہند۔ آرمینیا کے مابین نوجوانوں کے امور کے شعبے میں تعاون بڑھانے سے متعلق مفاہمتی عرضداشت

بھارت

نئی دہلی ، مرکزی کابینہ کو وزیر اعظم نریندر مودی ی قیاد ت میں منعقدہ میٹنگ میں اس مفاہمت عرضداشت کی اطلاع دی گئی ، جس پر ہند۔آرمینیاکے مابین نوجوانوں کے امور کے شعبے میں باہمی تعاون بڑھانے کے لیے پہلے ہی دستخط ہوچکے ہیں۔
واضح رہے مذکورہ مفاہمتی عرضداشت پر اپریل 2017 میں دستخط ہوئے تھے۔ یہ معاہدہ پانچ برسوں کی مدت تک نافذ العمل رہے گا۔
بعد ازاں یہ مفاہمتی عرضداشت آئندہ پانچ برسوں کے لیے خودکار طور پر ازسر نو توثیق شدہ ہوجائے گی جب تک کہ طرفین میں سے کوئی ایک دوسری پارٹی کو اس مفاہمتی عرضداشت کی توثیق نہ کرنے کی نوٹس نہ دے۔ تاہم یہ نوٹس چھ مہینے پہلے دی جانی چاہئے۔ اس مفاہمتی عرضداشت کو طرفین میں سے کوئی بھی ایک اپنی جانب سے چھ مہینے کی پیشگی نوٹس دے کر ختم کرسکتا ہے۔
مذکورہ مفاہمتی عرضداشت کا مقصد یہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان نوجوانوں کے امور کے شعبے میں مختلف تقریبات کے اہتمام اور سرگرمیوں کے ذریعے تعاون کو فروغ دیا جائے۔ اطلاعات اور علم کو باہم ساجھا کیا جائے اور دونوں ممالک کے مابین نوجوانوں کے تبادلے بھی عمل میں آئیں۔
نوجوانوں کے امور کے ذمہ تعاون کے شعبے میں، نوجوانوں کا باہم تبادلہ، نوجوانوں کی تنظیموں اور اداروں کے نمائندگان کا تبادلہ اور یوتھ پالیسی سازی سے متعلق سرکاری افسروں کا باہم تبادلہ شامل ہے۔
اس مفاہمتی عرضداشت کے تحت دونوں ممالک میں منعقد ہونے والے بین الاقوامی مذاکروں اور کانفرنس وغیرہ میں ایک دوسرے کیممالک کے نوجوانوں کو مدعو کرنا بھی شامل ہے۔ طبع شدہ مودا، فلموں اور تجربات کا تبادلہ بھی اس کے تحت آتاہے۔
نوجوانوں کے امور سے متعلق تحقیق اور دیگر اطلاعات ، نوجوانوں کے کیمپوں کا اہتمام اور اس میں شرکت، نوجوانوں کے میلوں کے اہتمام اور دونوں ممالک میں تقریب کا اہتمام بھی اس میں شامل ہے۔

Similar Posts

Share it
Top