نا کھاتہ نا بہی، پاکستان جو کہہ دے وہی صحیح

اظہار رائے

نا کھاتہ نا بہی، پاکستان جو کہہ دے وہی صحیحآدتیہ نریندر

آدتیہ نریندر
کلبھوشن جادھو کے معاملے میں پاکستان کی جانب سے ابھی تک جو بھی کہا گیا، عالمی سطح پر اس کا تجزیہ شروع کر دیا ہے. تمام تمام دنیا اسی کھوج میں لگی ہے کہ کلبھوشن جادھو پاکستان پہنچا کس طرح؟ بھارتی بحریہ کے ریٹائرڈ افسر کلبھوشن جادھو پر پاکستان اپنی گندی سیاست پر اتر آیا ہے، اب پاک الزام لگا رہا ہے کہ جادھو دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث تھا. دہشت گردی کا ماسٹر مائنڈ سرغنہ پاکستان جب کسی ہندوستانی افسر پر اس قسم کے بے بنیاد الزام لگاتا ہے تو پوری دنیا یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگاتی کہ پاکستان میں آخر دہشت گردی کی تعریف کیا ہے؟ معنی صاف ہیں کہ ہندوستان کی سرزمین کا سربجیت ہو یا جادھو اس کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت ہو یا نہ ہو، اتنا صاف ہے کہ کوئی کھاتا، نا بہی۔۔۔ پاکستان جو کہہ دے وہی صحیح ...! آج بھی یہ راز بنا ہوا ہے کہ پاکستان نے آخر جادھو جیسے افسر کو کہاں سے پکڑا. بتایا جا رہا ہے کہ جادھو کو آخری بار ایران کے اس علاقے چابہار میں دیکھا گیا تھا جو دہشت گرد تنظیموں کا گڑھ ہے. ہو سکتا ہے کہ آئی ایس آئی نے ایران کی مدد سے اور دہشت گرد تنظیموں کے تعاون سے جادھو کو اغوا کر لیا ہو اور پھر اس پر سنگین الزام لگا کر فوجی عدالت نے اسے پھانسی کی سزا سنادی ہو. بھارت اب بھی اس معاملے میں قانونی طریقہ کار پر عمل کرنا چاہتا ہے کہ پاکستان نے جادھو پر جو الزام لگا کر چارج شیٹ داخل کی ہے کم از کم اس کی کاپی بھارت کو دی جائے. دوسرا پھانسی کے حکم کے فیصلہ کی کاپی بھی دی جائے. ساتھ ہی جادھو کو پاک واقع بھارتی ہائی کمیشن کے حکام سے ملنے دیا جائے تا کہ اس سے معلومات لے کر بھارت اپیل کر سکے. لیکن پاکستان ہے کہ ابھی تک یہ سنجیدگی سے نہیں لے رہا. چونکہ بھارت میں اب مضبوط حکومت ہے. وزیر اعظم مسٹر نریندر دامودر مودی جی کے 56 انچ کے سینے کے ساتھ ساتھ دفاع اور محکمہ خارجہ میں بھی قابل افسران کی کوئی کمی نہیں ہے. پورا ملک جادھو کیس پر چوکنا ہے. لیکن پاکستان ہے کہ آزادی کے وقت تقسیم کی آگ میں بھارت کی طرف سے 56 کروڑ روپے کی گرانٹ رقم کی بنیاد پر ترقی کے نام پر تباہی کو جنم دینے میں شروع سے اب تک اس نے اپنی زندگی گزار دی ہے. اس سے شرمناک اور کیا ہوگا کہ ٹاٹ کے پیوند میں اپنا زندگی گزارنے والا پاکستان اپنی ناپاک زمین پر دہشت گردی کے ہتھیاروں کے اڈے تیار کر رہا ہے. دہشت گردی کے بھسماسر سے وہ خود مبتلا ہے لیکن گیدڑ بھبھکی اور اپنی ہیکڑی سے وہ اب ہندوستان کومجبورکر رہا ہے کہ وہ اب دو دو ہاتھ کر ہی لے. لیکن اتنا بھی صاف ہے کہ بھارت امن و بھائی چارے پع عمل کرتے ہوئے قوم کے اتحاد اور سالمیت کے لئے ہمیشہ کوشش کرتا رہا ہے، لیکن پڑوسی ملک اگر سازش کر ہندوستان کی فوج کے جوانوں کا حوصلہ توڑ ے گا، ان کے خلاف سازش رچیگا، وادی میں جوانوں کے اوپر پتھر برسوائے گا تووہ دن دور نہیں جب بھارت اس کے کو صفحے ہستی سے مٹانے کے لئے قدم نا اٹھالے۔. ہم آج بھی امن کے پجاری ہیں لیکن ان ان ملکوں کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ ہمارے تحمل کو ہماری کمزوری سمجھنے کی بھول نہ کریں. جادھو معاملے پر بھارت کی سفارتی کوششوں کی پوری دنیا تعریف کررہی ہے، لیکن صرف تعریف سے کسی افسر کے زندگی کو نہیں بچایا جا سکتا. بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ وہ پاکستان پر دباؤ بڑھائے اور اس کی گندی سیاست اور گندے کردار کو ختم کرنے کے لئے مثبت پہل کرے.

Similar Posts

Share it
Top