بہت مشکل ہے کانگریس کی واپسی کی راہ

اظہار رائے

بہت مشکل ہے کانگریس کی واپسی کی راہآدتیہ نریندر

آدتیہ نریندر
"دو چھت کے درمیان باقی بچا نہ کوئی'' یہ لائن تقریبا 26 ماہ قبل دہلی اسمبلی کے انتخابات کے دوران کانگریس پر سو فیصد فٹ بیٹھی اور بی جے پی اور آپ کے درمیان کانگریس اتنی بری طرح پسی کہ اس کا ایک بھی رکن اسمبلی دہلی اسمبلی کا منہ نہیں دیکھ پایا. اس کے بعد سے اب تک کانگریس واپسی کی راہ تلاش رہی تھی. راجوری گارڈن ضمنی انتخابات نے کانگریس کی توقعات کو ہوا ضرور دی ہے لیکن کیا یہ اتنا آسان ہے. شاید نہ ہو! اس کی ایک نہیں کئی وجوہات ہیں. سب سے بڑی وجہ مودی لہر ہے. دہلی میں مودی کے نام کا انڈر کرنٹ چل رہا ہے. جس کی وجہ سے راجوری گارڈن ضمنی انتخابات میں بی جے پی کو 51 فیصد سے بھی زیادہ ووٹ ملے تھے. کانگریس کے ساتھ مشکل یہ بھی ہے کہ نہ تو وہ مرکز اور نہ ہی ریاست میں اقتدار میں ہے. ایسے میں وہ کسی بھی کارکن یا ساتھی کو مطمئن نہیں کر سکتی جس کی وجہ سے کانگریس مسلسل سکڑ رہی ہے. کانگریس کے سابق ریاستی صدر اور ریاستی حکومت میں وزیر رہے اروندر سنگھ لولی کا استعفی اس کی ایک مثال ہے. اگرچہ سابق وزیر اعلی شیلا دکشت نے اروندر سنگھ لولی کے بی جے پی میں جانے کی مذمت کی ہے لیکن اسی کی آڑ میں انہوں نے ماکن پر یہ کہتے ہوئے نشانہسادھا ہے کہ ماکن سب کو ساتھ لے کر نہیں چل پائے. یادرہے، کانگریس میں ٹکٹ تقسیم کو لے کر ڈاکٹر اے کے والیہ، ہارون یوسف اور لولی کی ناراضگی سامنے آئی تھی. لولی نے تو کانگریس چھوڑ دی ہے لیکن ڈاکٹر والیہ اور ہارون کی ناراضگی دور کرنے کا ابھی تک کوئی بامعنی عمل نہیں کیا گیا. کانگریس خواتین مورچہ صدر برکھا سنگھ شکلا نے بھی اجے ماکن پر زیادتی کا الزام لگا کر پارٹی چھوڑ دی. دراصل یہ کوئی ڈھکی چھپی ہوئی بات نہیں ہے کہ ماکن کے سامنے مخالف دھڑے کے سینئر لیڈروں کو نمٹا دینے کا یہ ایک بہترین موقع تھا اور ایک موثر سیاستدان کی طرح وہ اس سے چوکے بھی نہیں. راجوری گارڈن میں کانگریس کے دوسرے مقام پر آنے سے ماکن کی توقعات کو ہوا بھی ملی ہے. انہوں نے کہا کہ آپ کو ٹرانسفر ہوا ان کا ووٹ بینک واپس آ رہا ہے. حقیقت یہ ہے کہ دہلی کے کئی علاقوں کی ڈیمو گرافی مختلف طرح کی ہے. جھگی جھوپڑیوں اور ری سیٹلمنٹ کالونیوں میں مودی کے جادو اور کیجریوال کے بجلی ہاف پانی معاف کے نعرے سے کانگریس کس طرح مقابلہ کر پائے گی یہ ابھی تک صاف نہیں ہے. مشرقی دہلی کے ایک وارڈ کے لئے دو نام آگے بڑھائے گئے تھے. ایک نام کو ضلع صدر اور دوسرے کو سابق ممبر اسمبلی آگے بڑھا رہے تھے. بتاتے ہیں کہ اجلاس کے دوران شدید ترین بحث ہو گئی. نتیجے میں جسے ٹکٹ نہیں ملا وہ اپنے کارکنوں کے ساتھ گھر بیٹھا ہے. ایسے قصے درجنوں اسمبلیوں میں مل جائیں گے. اگر کانگریس اپنے کارکنوں کو باہر نہیں نکال پائی تو ووٹروں کو کس طرح نکالے گی. ماکن کے سامنے یہ ایک چیلنج ہے. چونکہ اب دو دن بعد ہی انتخابات ہیں لہذا ایسے میں کوئی بڑا لیڈر کانگریس چھوڑتا ہوا نظر نہیں آتی لیکن بڑے لیڈر اور ان سے منسلک کارکن گھر سے باہر نہیں نکلے تو کانگریس کس طرح جیتے گی یہ ایک لاکھ ٹکے کا سوال ہے. بی جے پی کا بڑھتا اثر کانگریس کی واپسی کی راہ کو مشکل بنا رہا ہے. مودی ایک سیاستدان کے طور پر ملک کا سب سے بڑا قابل قبول چہرہ بن چکے ہیں. ان کی قیادت میں بی جے پی مسلمانوں کے درمیان بھی مسلسل اپنی بنیادمضبوط کررہی ہے جو کہ دو تین سال پہلے تک ایک خواب لگتا تھا. مسلم ووٹ تقریبا چار درجن وارڈوں میں بہت بڑا کردار نبھائیں گے. پہلے مسلم بی جے پی کے خلاف اسٹریٹجک ووٹنگ کیا کرتے تھے جو بھی امیدوار انہیں بی جے پی کو شکست دینے کے قابل لگتا تھا وہ اسی کے پیچھے لگ جایا کرتے تھے تاکہ بی جے پی کا امیدوار جیت نہ سکے. اب حالات بدل چکے ہیں. مسلم اکثریتی علاقوں میں مسلمانوں کے گلے میں بھگوا پٹا بھی حیران نہیں کرتا. کبھی یہی ووٹر کانگریس کا سیاسی سرمایہ ہوا کرتے تھے لیکن آج یہ لوگ کانگریس سے چھٹکتے جا رہے ہیں. دوسری طرف عام آدمی پارٹی کا مینڈیٹ بھی کانگریس سے ادھار لیا ہوا ہے جس کی بدولت آپ آج دہلی کے اقتدار پر قابض ہے. اس نے بجلی ہاف پانی معاف کے نعرہ کا معجزہ دیکھا ہے. اب اس نے پراپرٹی ٹیکس کی معافی کا نعرہ اچھال دیاہے. اگرچہ یہ نعرہ بجلی، پانی والے نعرہ جتنا مؤثر ہو پائے گا اس میں شک ہے کیونکہ بجلی کے میٹر ہر گھر میں تھا جس کا فائدہ سب نے اٹھایا لیکن کئی قسم کی کالونیاں ایسی ہیں جو ہاؤس ٹیکس نہیں دیتی. جہاں پر مالک مکان ہاؤس ٹیکس دیتے ہیں وہاں بھی یہ نعرہ اثرنہیں کر پائے گا کیونکہ بڑے لوگوں پرہاؤس ٹیکس کا فرق نہیں پڑتا. درمیانے طبقے کی کالونیوں میں لوگوں نے 5۔5 منزلہ مکان بنا رکھے ہیں. ایک منزل میں وہ رہتے ہیں. باقی چار منزل انہوں نے کرائے پر دے رکھی ہے. ایسے میں کرائے داروں کو بھی پراپرٹی ٹیکس معافی سے کچھ لینا دینا نہیں ہے پھر بھی یہ تلخ حقیقت ہے کہ کانگریس کا ووٹ ہی آپ کے اکاؤنٹ میں گیا تھا. ایسے حالات میں کانگریس اگر رنر اپ بھی رہی تو اس کے لئے یہ ایک کامیابی سے کم نہیں ہوگی.

Similar Posts

Share it
Top