کارپوریشن انتخابات کے نتائج سے کانگریس اور `آپ 'کی سمت اور حال طے ہوا

اظہار رائے

کارپوریشن انتخابات کے نتائج سے کانگریس اور `آپ آدت�?ہ �?ر�?�?در

راجدھانی دہلی میں تینوں میونسپل کارپوریشنوں کے نتائج آ گئے ہیں. 270 نشستوں کے نتائج میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے ہیٹ ٹرک بنائی. شمالی دہلی میونسپل کارپوریشن کی سیٹ سرائے پیپل تھلہ اور مشرقی دہلی کی موج پورر سیٹ پر امیدوار کی حادثاتی موت سے انتخابات منسوخ ہوا اور اب ان دونوں سیٹوں پر انتخاب 14 مئی اور 21 مئی کو ہونا یقینی ہے. ٹھیک ہے، بات کرتے ہیں ان انتخابات میں عوام جناردن کے مینڈیٹ کی. بھارتیہ جنتا پارٹی گزشتہ دو ٹرم پورا کر چکی تھی، پارٹی اعلی کمان کو بھی بخوبی علم تھا کہ اگر اس بار ان پرانے کونسلر پر ہی داؤ کھیلا گیا تو کارپوریشن ہاتھ سے نکل جائے گا. پارٹی کے ساتھ ساتھ یونین کے اندرونی سروے سے جو رپورٹ نکل کر آئی اس سے صاف تھا کہ بی جے پی کونسلر علاقے کے عوام کی کسوٹی پر کھرا نہیں اتر پائے. بی جے پی اعلی کمان کی ہدایت پر دہلی بی جے پی صدر مسٹر منوج تیواری نے صاف اعلان کیا کہ دہلی میونسپل کارپوریشن انتخابات صورت ماڈل پر لڑے جائیں گے جس اشارہ صاف تھا کہ پارٹی اس بار تمام نئے چہرے میدان میں اتاریں گے. اس اعلان سے پرانے کونسلر بیچارے بے گھر ہو گئے. وہ دن رات کوشش کرتے رہے کہ کہیں کوئی آس نظر آئے، لیکن تنظیم کی سرووپرتا کے آگے سخت فیصلے کڑوی دوائی کی طرح بی جے پی کے کام آیا اور انتخابی نتائج کے بعد 181 نشستیں اس کے حق میں گئیں. کانگریس کا عالم شاید اب یہ ہو چکا ہے کہ کانگریس کے یوراج ملک سے کانگریس کا نامونشان مٹانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور دہلی میں اجے ماکن نے اقربا پروری کی راہ پر جا کر کانگریس کو ڈبونے کا کام کیا. حد تو تب ہو گئی جب ماکن نے تبھی اخلاقی ذمہ داری لیتے ہوئے استعفی دیا. لیکن یوراج راہل نے استعفی قبول کرنے کی بجائے لگے رہو منا بھائی ... کی نعمت دے ڈالا. شاید کانگریس اعلی کمان کے سیارے۔نکشتر ہی خراب ہیں کہ وہ اتنا سب کچھ ہونے کے بعد بھی کوئی سبق لینا چاہتے. نتیجے کانگریس کی بچی کھچی ساکھ بھی اب شاید کچھ دن کی مہمان ہے. مجبوری یہ بھی ہے کہ اتنی پرانی پارٹی کے کئی بڑے کچھ کرنا بھی چاہیں تو یوراج کی ضد کے آگے بیچارے میمنے کی طرح نظر آتے ہیں. ان انتخابات میں کبھی اقتدار میں رہنے والی کانگریس تیسرے نمبر کی پارٹی بن گئی. اب بات کرتے ہیں عام آدمی پارٹی کی. پارٹی نے روشن سماجی کارکن انا ہزارے کی کوکھ سے جنم لے کر مسٹر اروند کیجریوال کے طور پر نشوونما پاتا، سیاست میں پھیلی گندگی کو دور کرنے کے لئے پارٹی کی پیدائش ہوئی، دہلی والوں نے اسمبلی میں 67 نشستیں دے کر اپنا وعدہ بھی نبھایا، لیکن یہ کیا میاں کیجریوال نے سوچا کہ دہلی فتح کے بعد اب ملک فتح ہے ... عالم یہ رہا کہ جب گھوڑے کے پاؤں میں نال لگائی جا رہی تھی تو طالاب سے نکلی مینڈھکینے بھی پیر اٹھا دیا کہ میرے پاؤں میں بھی نال ٹھونک دو. اسی کہاوت پر عمل کرتے ہوئے مینڈھکی روپی مسٹر کیجریوال نے لوک سبھا کے انتخابات، پنجاب، گوا کے انتخابات میں امیدوار اتار کر ملک فتح کا خواب بننا شروع کر دیا. لیکن ملک کے عوام کے ساتھ ساتھ دہلی کے عوام بھی سمجھ گئی کہ کیجریوال صاحب بیوقوف بناکر صرف اور صرف سیاسی سوارتھسددھ پر لگے ہیں. گوا صاف، پنجاب ہاف اور دہلی میونسپل انتخابات میں عوام نے صاف کہا کہ معاف کرو بھائی. نتائج دہلی میں کانگریس کو پچھاڑکر دوسرے نمبر پر ضرور آئی لیکن اکثریت سے کوسوں دور. بالآخر اب دہلی ہی نہیں بلکہ ملک میں بھاجپائی `کمل 'کی آندھی کے آگے جھاڑو کی تتیلیاں بکھر گئیں، کانگریس کا ہاتھ لٹک گیا. پوزیشن صاف ہے کہ عوام کا فیصلہ کچھ وقت کے لئے غلط ہو سکتا ہے لیکن وقت آنے پر جمہوریت بھی تاریخ لکھنے کی مہارت رکھتا ہے.

Similar Posts

Share it
Top