درندوں کی درندگی کی سزا پھانسی سے کم ہو ہی نہیں سکتی

اظہار رائے

درندوں کی درندگی کی سزا پھانسی سے کم ہو ہی نہیں سکتیآدتیہ نریندر

آخر کار سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے ذریعے دی گئی پھانسی کے فیصلے پر ہی اپنی قطعی مہر لگادی۔ نربھیا کانڈ معاملے میں جب دوپہر 2.03 منٹ پر تینوں جج جسٹس شری دیپک مشرا، جسٹس شری اشوک بھوشن اور جسٹس آر بھانومتی کورٹ میں آئے تو وہاں موجود نربھیا کے والدین بھگوان سے انصاف کی پرارتھنا کرتے نظر آئے۔ جب عدالت نے کہنا شروع کیا کہ نربھیا کانڈ صدمے کی علامت ہے۔ جس بربریت کے ساتھ جرم ہوا ہے اسے معاف نہیں کیا جاسکتا، واقعہ سماعت کو ہلا دینے والا تھا۔ دیکھ کر لگتا تھا کہ یہ واقعہ اس زمین کا ہی نہیں بلکہ کسی اور گرہ کا ہے۔ واردات کے بعد رونما دیش میں غم کی سونامی آگئی، جس کو سن کر سبھی کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ ایسے ہی اس گینگ ریپ میں ہمارے بھی رونگٹے کھڑے ہوئے ہیں۔ یہ جملے چاروں ملزمان کو سناتے وقت جسٹس دیپک مشرا اور جسٹس اشوک بھوشن کے تھے۔ حالانکہ اس وقت موقعہ پر جسٹس آر بھانومتی بھی موجود تھی۔ تین نفری بنچ نے کورٹ میں 20 منٹ میں فیصلہ سنایا۔ فیصلہ کے بعد ایک منٹ تو کورٹ میں خاموشی سی چھا گئی، لیکن اسی لمحہ جسٹس شری مشر نے کہا کہ کیا یہ فیصلہ تالیوں کے لائق نہیں ہے، پھر کیا تھا۔۔۔ پورا چیمبر تالیوں کی گڑگڑاہٹ سے گونج ہوتا۔ نربھیا کی ماتا پتا کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو نکل رہے تھے۔ حقیقت میں سپریم کورٹ کا فیصلہ سکون دینے والا ہے۔ 6 ملزمان میں سے ایک نے جیل میں ہی خودکشی کرلی جبکہ سب سے زیادہ بربریت اور ظلم دکھانے والا نابالغ ہونے کے سبب بچ نکلا۔ حالانکہ اس واردات کے بعد جوئنائل جسٹس ایکٹ میں ترمیم کرکے نابالغ کی عمر حد 18 سے گھٹا کر16 کردی گئی ہے، اگر یہ ترمیم پہلے آگئی ہوتی تو وہ نابالغ بھی شاید آج موت کی سزا کا حقدار ہوتا۔ اس واردات کے احتجاج میں پیدا عوامی ناراضگی کا اثر یہ ہوا کہ کرائم کا عمل آئین میں برسوں سے التوا سدھار ایک جھٹکے میں ہوگئے۔ 16 دسمبر 2012ء کی رات جوتی سنگھ عرف نربھیا کے ساتھ خالی بس میں اس کے دوست کی موجودگی میں 6 درندوں نے اس سے نہ صرف بدفعلی کی بلکہ اسے ادھ مرا کر سرد رات میں سڑک کے کنارے برہنہ پھینک گئے۔ بس میں اس کے دوست کی بھی بے رحمی سے پٹائی کی گئی۔ دونوں کو بس سے کچلنے کی بھی کوشش کی گئی۔ کیونکہ بدنصیب متاثرہ کا نام سامنے لانا آئی پی سی کی دفعہ 228 میں ممنوع ہے اس لئے میڈیا نے اس کا نام 'نربھیا' رکھ دیا، لیکن اگر متاثرہ کی موت ہوجائے تو اس دباؤ کا کوئی بندھن نہیں رہ جاتا اور اس کا نام عام کیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ جیوتی عرف نربھیا اب نہیں رہی اس لئے یہاں اس کے نام کا ذکر کیا گیا۔ اگر آج جیوتی سنگھ زندہ ہوتی تو آنے والی 10 مئی کو وہ28 برس کی ہوجاتی۔ عزت مآب عدالت کے اس فیصلے کے بعد بھی ابھی اور قانونی کارروائی باقی ہے۔ اب بحث اس بات پر چھڑی ہے کہ ان ملزمان کو سزا سنائے جانے کے بعد پھانسی کے پھندے پر پہنچنے کے لئے کتنا وقت اور لگے گا۔ ماہرین قانون کے مطابق ان ملزمان کے سامنے فوری طور پر سپریم کورٹ میں نظرثانی عرضی کا متبادل کھلا ہے، حالانکہ اس راستے پر بھی سزا کم ہونے کی امید تقریباً نہ کے برابر ہے۔ اس کے بعد ان کے پاس بصد احترام صدر جمہوریہ کے سامنے ایک رحم کی اپیل داخل کرنے کا آخری موقعہ ہوگا۔ حالانکہ بھارت کے صدر جمہوریہ جناب پرنب مکھرجی صاحب کا عہد اسی سال24 جولائی کو ختم ہورہا ہے اس لئے اندازہ یہی لگایا جارہا ہے کہ بھارت کے نئے صدر جمہوریہ کے سامنے ہی ان کی رحم کی اپیل سماعت کے لئے آسکتی ہے بہرحال، نربھیا کانڈ میں چاروں ملزمان کو سزائے موت ملنے کی خبر کے بعد اس طرح کی حرکات کا تانا بانا بننے والے ذہنی طور سے بیمار ،حیوان سمجھ لیں گے کہ درندگی کا خاتمہ پھانسی کے پھندے پر ہی جا کر ہوتا ہے۔

Similar Posts

Share it
Top