کیجریوال کنبے میں زلزلے کی وجہ آخر کیا ہیں؟

اظہار رائے

کیجریوال کنبے میں زلزلے کی وجہ آخر کیا ہیں؟آدتیہ نریندر

انا ہزارے کی تحریک سے حاصل ہوتی عام آدمی پارٹی آج اپنی کرنی کا پھل خود آسکتی رہی ہے. میں اس انا ہزارے کو جانتا ہوں جس کی ہنکار سے گھبرائی کانگریس حکومت نے انہیں تہاڑ میں بند کر دیا تھا. اگلے دن ان کی رہائی کے وقت سڑکوں پر جو عالم تھا۔
اس کے الفاظ میں اس وقت بیان نہیں کیا جا سکتا تھا. روشن سماجی کارکن انا ہزارے کی ٹیم میں شانتی بھوشن، پرشانت بھوشن، یوگیندر یادو، اروند کیجریوال، کرن بیدی، جنرل وی کے سنگھ وغیرہ وہ نامی ہستیاں تھیں، جنہوں نے تحریک کو اتنی کنارہ دی کہ مرکزی حکومت ہل گئی. اگرچہ آج کی ڈیٹ میں جنرل وی کے سنگھ حکومت ہند کے وزیر ہیں، محترمہ کرن بیدی لیفٹیننٹ گورنر ہیں، یوگیندر یادو، شانتی بھوشن، پرشانت بھوشن وغیرہ کو پہلے دہلی کے موجودہ سربراہ مسٹر اروند کیجریوال نے اپنی عام آدمی پارٹی میں رکھا، لیکن پھر تلخی ہونے کی وجہ سے ان تینوں مہاریتوں کو باہر کا راستہ دکھا دیا، چونکہ یہ تمام تجربے کار مسٹر کیجریوال کو زیادہ سمجھ نہیں سکے اور باہر آکر `سوراج انڈیا'تشکیل دیا. مانا جاتا ہے کہ عام آدمی پارٹی میں ڈکٹیرشپ (آمریت) کا بول بالا ہے، کیجری کے خلاف جس نے بھی آہٹ کی، اس کا پارٹی سے پتی صاف. عالم یہ ہو گیا کہ آج مسٹر اروند کیجریوال کے خلاف انہی کی ٹیم کے پاورفل والنٹیر شری کپل مشرا نے پارٹی کے اندر رہ کر محاذ کھول دیا جس کا جواب پارٹی کنوینر مسٹر کیجریوال کے گلے کی ہڈی بن گیا ہے. دھرنے کارکردگی سے شروع ہوئی پارٹی کو دہلی کے عوام نے اسمبلی میں 67 نشستیں دے کر اقتدار میں کیا بٹھایا کہ مسٹر کیجریوال کی اہمیت ہی ختم ہوگئی پارٹی کے قوانین قانون پر بولنے والوں کو پہلے ہی باہر کیا جا چکا تھا، تو کیجری دربار میں وہ ہی نورتن رہ گئے ، جس میں صرف اور صرف جی حضوری کرکے اپنے آپ کو محفوظ رکھے ہوئے ہیں. مسٹر کیجریوال چاہتے تھے کہ دہلی جیتی ۔ اب ملک جیتو، انہوں نے بنارس سے مسٹر مودی کے خلاف الیکشن لڑا. لوک سبھا میں کافی امیدوار کھڑے کئے، لیکن پنجاب کے علاوہ کہیں سے کوئی کامیابی نہیں ملی. لوک سبھا کے نتائج کے بعد کیجری کو لگا کہ پنجاب گوا میں ریاستی حکومت بنائی جا سکتی ہے، ملک کے وزیر اعظم بننے کی چاہ میں 67 سیٹوں والی دہلی کے عوام کا درد پوچھنا بھی وہ بھول گئے. گوا میں صاف، پنجاب میں ہاف کے ساتھ آج دہلی میں پارٹی کا عالم یہ ہے کہ گروکے اصولوں پر ، جتنی تیزی سے پارٹی اٹھی، اتنی ہی تیزی سے اب اس کا زوال ہو رہا ہے۔
کیجری کی `''مے'اسکو ڈبو رہی ہے ، کنبے کے دلوں میں گہری درار پنپ رہی ہیں، کپل مشرا ہی بھسماسر کی طرح پارٹی کے سر پر بیٹھ کر ننگا ناچ کر رہے ہیں اور صحیح بات ہے کہ ایماندار ماسک لگا کر کام کرنے والے مسٹر اروند کیجریوال کے نمائندے ایماندار وزیر جناب کپل مشرا سے ٹکراؤ ہو گیا. آج عام آدمی پارٹی کا کوئی بھی رکن اسمبلی ابھی کپل مشرا کے خلاف بھوک ہڑتال پر بیٹھے، عوام یہی مان رہی ہے کہ کیجریوال اب کھیسیانی بلی کھنبا نوچے 'والی کہاوت کے چلتے کام کر رہی ہے. پارٹی میں مخالفت یا بغاوت کے سر کو اٹھانے والے لیڈروںیاوزراء کے خلاف فورا کارروائی کرکے انھیں ہٹادیتے ہیں، لیکن ان کی اس بار کی خاموشی بتا رہی ہے کہ کہیں نہ کہیں کچھ نہ کچھ تو ہے. ایمانداری کا ماسک پہن کر دہلی کو 10 سال پیچھے دھکیلنے والے مسٹر اروند کیجریوال کارپوریشن انتخابات میں شکست کے بعد `وی ایم 'مشین کے معاملے کو اٹھا کر توجہ ہٹانا چاہ رہے ہوں، لیکن بابو یہ پبلک ہے ... اور یہ سب کچھ جانتی ہے. بہرحال آج مسٹر کیجریوال کچھ اس قسم کا درد بھرا نغمات ضرور گنگناتے ہوں گے ...
کہ ہمیں اپنوں نے مارا، غیروں میں کہاں دم تھا،کشتی وہیں ڈوبی جہاں پانی کم تھا۔

Similar Posts

Share it
Top