صدارتی انتخابات مودی شاہ سنیں گے سب کی، کریں گے من کی

اظہار رائے

صدارتی انتخابات مودی شاہ سنیں گے سب کی، کریں گے من کیآدتیہ نریندر

آدتیہ نریندر
صدارتی انتخابات کی آہٹ ہوتے ہی اپوزیشن جماعتوں نے بے داغ، سیکولر اور متفقہ والے امیدوار کو صدر بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے تلوار بھاجن? شروع کر دی ہیں. یہ جانتے ہوئے بھی کہ این ڈی اے کے پاس تقریبا 48 فیصد ووٹ ہیں اور اسے اپنے امیدوار کو صدر بنانے کے لئے زیادہ مشقت نہیں کرنی پڑے گی. اپوزیشن کی اس پینتریبازی کے حکمراں فریق نے بھی ترکی اور ترکی جواب دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے راج ناتھ سنگھ، ارون جیٹلی اور وینکیا نائیڈو کی ایک کمیٹی قائم کر دی جو اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ صلاح مشورہ کر صدر کے متفقہ نام پر بحث کرے گی.دراصل آزادی کے بعد پہلی بار بی جے پی کے پاس ایسا موقع آیا ہے کہ وہ اپنے اور اپنے ساتھیوں کے دم پر خالص اپنی پسند کے شخص کو صدر چنوا سکتی ہے. اپوزیشن بھی اس بات کو جانتا ہے تو پھر اپوزیشن کی اس ہائے توبہ کے پیچھے کیا ہے. اصلیت یہ ہے کہ اپوزیشن چاہتا ہے کہ عام عوام میں حکومت کی تصویر ایک ایسی گھمنڈی حکومت کے طور پر بنے جو جمہوریت کے بنیادی اصولوں کے برعکس کام کرتی ہوئی نظر آئے. مودی جادو سے تباہ اپوزیشن کو اس میں اپنی یکجہتی کا فارمولا بھی دکھائی دے رہا ہے جو اس کے وجود کو کافی حد تک محفوظ کر سکتے ہیں. صدر پورے ملک کا سربراہ ہوتا ہے. اتفاق رائے صدارتی ساکھ اور وقار میں اضافہ. اس حقیقت کو حکمران پارٹی نظر انداز کرتا ہوا نہ دکھائی دے یہی سوچ کر بی جے پی صدر امت شاہ نے دوسری جماعتوں کے ساتھ اتفاق رائے بنانے کی کوشش کرتے ہوئے جس میں تین ارکان کی کمیٹی بنائی ہے اس کے اراکین نے سونیا اور یچوری سے ملاقات تو کی ہے لیکن آپ کی طرف سے صدر کے لئے ابھی تک کوئی نام نہیں بتایا. اس پر آزاد اور یچوری نے مختلف موقعوں پر کہا بھی کہ حکومت نے جب کوئی نام ہی نہیں بتایا تو بحث کس طرح ممکن ہے. تو پھر راجناتھ اور وینکیا جوڑے بغیر صدارتی امیدوار کے نام کے اپوزیشن لیڈروں سے کس بات کی بحث کرتی گھوم رہی ہے. کہیں وہ یہ تو نہیں چاہتی کہ اپوزیشن ہی کوئی ایسا نام سفارش دے جو اس میں پھوٹ کا سبب بن جائے. علاقائی سالمیت کے نام پر ایسا پہلے بھی ہو چکا ہے. اگر ایسا ہوا تو اپوزیشن اتحاد کا غبارہ پھولنے سے پہلے ہی پھٹ جائے گا. یہ تو سیاست کا ادنے سے عدنا علم بھی نہیں مان سکتا کہ جب نامزدگی ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں ہونا ہو تو سب سے بڑے سٹیک ہولڈر کے پاس اپنے امیدوار کا نام تک نہ ہو. جو لوگ مودی شاہ کے مزاج کو جانتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ چونکانے والے فیصلے لینا ان دونوں رہنماؤں کی نوعیت ہے. یہ دونوں رہنما اس معاملے میں بھی سنیں گے سب کی لیکن گے آپ کے دماغ کی. یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ انہوں نے ابھی تک صدارتی امیدوار پر فیصلہ نہ کیا ہو. یہ ضرور ہے کہ اس کے اسٹریٹجک پہلو کو دیکھتے ہوئے اس کا اعلان آخری وقت پر کی جائے. شاہ اپنے امیدوار کی جیت کے لئے مکمل کوشش کر رہے ہیں. این ڈی اے میں شیوسینا کمزور لنک کے طور پر موجود ہے. اسے دیکھتے ہوئے وہ ممبئی گئے ہیں. جہاں شیوسینا سپریمو کو منانے کی کوشش کریں گے. آندھرا کے مقامی جماعتوں کے رہنماؤں کے. چندر شیکھر راؤ اور جگن ریڈی کے اضافی تمل ناڈو کی ایا?ڈ?یم?ے کے دونوں طبقوں کے علاوہ اور کچھ چھوٹی چھوٹی جماعتوں پر بھی بی جے پی کی نظر ہے. بی جے پی لیڈر اپنی پسند کے امیدوار کی جیت کو لے کر مطمئن ہے اور وہ اس جیت کے فرق کو بڑھانا چاہتے ہیں. یہ فرق جتنا بڑھے گا اپوزیشن اتحاد اتنی ہی کمزور ہوگی. صدارتی انتخابات نے بی جے پی کو اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ بات چیت کرنے کا ایک بہترین موقع ہے. اس سے مستقبل میں بی جے پی کے لئے کانگریس، آر جے ڈی، ٹی ایم سی اور لیفٹ پارٹیوں کو دوسری چھوٹی پارٹیوں سے الگ کرنے کا موقع بھی نکل سکتا ہے. اگرچہ اسے ابھی دور دلوایا کہا جا سکتا ہے لیکن سیاست کے لئے بصیرت بے حد ضروری ہے. امید ہے کہ آئندہ چند دنوں میں مودی اور شاہ حکمراں پارٹی کے صدارتی امیدوار کے نام کا انکشاف کر دیں گے اور وہ مکمل طور پر ان کی پسند کا ہی ہوگا. اب یہ اپوزیشن کے اوپر ہے کہ وہ مودی شاہ کی پسند کو قبولیت دے گا یا پھر انتخابات لڑ کر ہارنے کا خطرہ اٹھائے گا. ایسے میں جبکہ حکمراں پارٹی کی جیت سامنے دیوار پر لکھی عبارت کی طرح صاف دکھائی دے رہی ہے، مخالف جماعتوں کے رہنماؤں کے لئے تمام اپوزیشن کو متحد رکھنا آسان کام نہیں ہے. دیکھنا ہوگا کہ ان حالات میں اپوزیشن مودی شاہ کے ماسٹر اسٹروک کے آگے کیا حکمت عملی اختیار کرتا ہے۔

Similar Posts

Share it
Top